بھارت میں نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے طویل احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کر دیا، جسے وزیراعظم نے منظور کر لیا۔ بھارتی میڈیا نے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور اس کی منظوری کی تصدیق کر دی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے اعلان کیا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج ختم کرتے ہوئے مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔
پارٹی کے بانی رہنما ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ طلبہ تحریک کی بڑی کامیابی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے تک حکومت کی جانب سے ان سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقے مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت میں وزراء استعفیٰ نہیں دیتے، لیکن طلبہ کے مسلسل اور پُرامن دباؤ نے یہ تاثر غلط ثابت کر دیا۔
یہ احتجاج تقریباً دو ماہ قبل امتحانی پرچے لیک ہونے، مبینہ کرپشن اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوا تھا۔ تحریک کے دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی، جس نے احتجاج کو ملک گیر توجہ دلائی۔
