امریکا نے چین کی معروف کارپوریٹ کمپنیوں Alibaba، Baidu اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی BYD کو “چینی فوجی معاون کمپنیاں” قرار دیتے ہوئے انہیں بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کے چینی فوج کے ساتھ مبینہ روابط یا معاونت کے امکانات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں دفاعی اور حساس اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “امتیازی اقدام” قرار دیا ہے۔ چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ امریکا قومی سلامتی کے تصور کو غلط انداز میں استعمال کر رہا ہے اور اس طرح کے اقدامات عالمی کاروباری ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق بیرون ملک کام کرنے والی چینی کمپنیاں اپنے میزبان ممالک کے قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور چینی کمپنیوں کے لیے ایک منصفانہ اور غیر امتیازی کاروباری ماحول فراہم کرے۔
