ایران، روس اور چین نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت یافتہ مجوزہ قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔
مشترکہ بیان، جسے ویانا میں روس کے مستقل نمائندے نے اجلاس کے دوران پڑھ کر سنایا، میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد خطے اور عالمی سطح پر پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔ تینوں ممالک نے اس اقدام کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایران، روس اور چین نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تمام متعلقہ شقیں اکتوبر 2025 میں ختم ہو چکی ہیں، لہٰذا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بعض سابقہ پابندیوں یا اقدامات کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے قانونی بنیاد موجود نہیں رہی۔
بیان میں ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف ماضی میں ہونے والے حملوں اور سلامتی کے خدشات کا بھی ذکر کیا گیا۔ تینوں ممالک نے کہا کہ پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں IAEA کے رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت سے گریز کریں جو ادارے کے تکنیکی اور غیر جانبدار کردار کو سیاسی تنازعات کی نذر کر دے۔ بیان میں کہا گیا کہ IAEA کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق تکنیکی اور پیشہ ورانہ انداز میں کام جاری رکھنا چاہیے۔
ایران، روس اور چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں پائیدار استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کے پرامن جوہری توانائی کے حصول کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے، بشرطیکہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔
