مظفرآباد: آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی پر مبینہ فائرنگ کے واقعے نے تحریک کے پرامن ہونے سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق فلیگ مارچ کے دوران سب سے آگے موجود بکتر بند گاڑی پر تقریباً 30 گولیاں لگیں، جبکہ اس کے پچھلے دونوں ٹائروں کو بھی شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ پھٹ گئے۔
واقعے کے بعد بعض حلقوں نے احتجاجی قیادت کے پرامن جدوجہد کے دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعدد مقامات پر مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق آڈیو اور ویڈیو شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کا مقصد صرف عوامی حقوق کا حصول ہے تو اس دوران اسلحے کے استعمال اور مسلح جتھوں کی موجودگی کی وضاحت ضروری ہے۔
یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ معاشی مشکلات اور غربت کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد طویل عرصے تک اپنے کاروبار بند رکھنے کے باوجود اخراجات، اسلحے اور مہنگی مواصلاتی سہولیات کے استعمال کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کر رہے ہیں۔

