اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر نے امریکا ایران امن معاہدہ مسترد کر دیا

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر شدت پسند اتمار بین گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی اور امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں، اس لیے اسے اپنے لیے پابند نہیں سمجھتا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت کے سخت گیر دھڑے سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اتمار بین گویر نے اپنے ٹیلی گرام پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت اسرائیل کی سیکیورٹی ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔ ان کے مطابق موجودہ معاہدہ خطے میں اسرائیل کو درپیش خطرات کے خاتمے کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔

انہوں نے لبنان میں سرگرم حزب اللہ کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تنظیم کے مکمل خاتمے سے کم کسی نتیجے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ بین گویر کے مطابق اسرائیلی فوج نے عسکری کارروائیوں کے دوران جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، وہاں سے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانی چاہیے۔

اسرائیلی وزیر نے زور دیا کہ لبنان اور دیگر محاذوں پر قائم عسکری ڈھانچوں کو مکمل طور پر ختم کرنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی دفاع کے معاملات میں اسرائیل اپنے فیصلے خود کرے گا اور کسی ایسے معاہدے کا پابند نہیں ہوگا جس میں اس کی براہِ راست شمولیت نہ ہو۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے