سیالکوٹ کے حلقہ این اے 71 میں 2024 کے عام انتخابات کا نتیجہ محض ایک اور الیکشن رزلٹ نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے ساتھ ایسے سوالات لے کر آیا جو آج تک مکمل طور پر حل طلب ہیں۔ خواجہ آصف کی اس نشست پر "فتح” کو محض ایک عام سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس انتخاب کے نتیجے پر سنگین اور تاحال جواب طلب اعتراضات موجود ہیں۔
رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی نے کہا کہ خواجہ آصف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو ایک 80 سالہ نحیف و نزار ماں نے شکست دی، وہ آج ہمیں عزت، غیرت اور اصولوں کا درس دے رہا ہے؟پہلے خود جاؤ، سیالکوٹ کے عوام سے معافی مانگو اور انہیں بتاؤ کہ میں دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیت کر آیا ہوں۔دوسری بات، جب 2018 کا الیکشن ہوا تو تم جنرل باجوہ کے سسر اعجاز امجد کے پاس گئے، ان کے پاؤں پکڑ کر کہا: "مجھے الیکشن جتوا دیں۔” انہوں نے تمہیں جتوایا۔اس کے باوجود تمہیں شرم نہیں آئی اور پھر کسی اور کے بھی پاؤں پکڑے؟ اب یہ بھی بتاؤ کہ 2024 کے الیکشن میں تم نے کس کے پاؤں پکڑے؟ہمیں نصیحتیں کرنے سے پہلے اپنے گھر، اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے پاس جاؤ، اور ان سے معافی مانگو کہ تم نے 2018 کا الیکشن بھی دھاندلی سے جیتا اور 2024 کا الیکشن بھی اسی طرح جیتا۔جب اپنے اندر عزت اور غیرت پیدا کر لو، تب دوسروں کو نصیحت کرنا۔پہلے اپنا حساب دو۔شرم بھی کوئی چیز ہوتی ہے، حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے!
اس پورے تنازع کا سب سے چبھتا ہوا پہلو یہ ہے کہ خواجہ آصف، جو 1993 سے مسلسل اسی حلقے سے پانچ بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور جن کا شمار ملک کے تجربہ کار ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، کو سیاست میں پہلی بار قدم رکھنے والی اور 80 برس کی عمر کو پہنچی ریحانہ ڈار کے ہاتھوں اتنی سخت ٹکر کا سامنا کرنا پڑا کہ ابتدائی نتائج میں وہ کئی گھنٹوں تک واضح شکست سے دوچار دکھائی دیے۔ ایک ایسی خاتون جو اس سے پہلے کبھی خود انتخابی میدان میں نہیں اتری تھیں، جن کا واحد "سرمایہ” ان کے بیٹے عثمان ڈار کی سیاسی وابستگی اور عوامی ہمدردی تھی، اس نے سیالکوٹ کے اس دیرینہ سیاسی گڑھ کو ہلا کر رکھ دیا جسے خواجہ آصف اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے رہے ہیں۔
یہ محض ایک انتخابی مقابلہ نہیں بلکہ خواجہ آصف کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کا واضح ثبوت ہے۔ اگر ایک تجربہ کار، پانچ بار کا رکنِ اسمبلی اور مرکزی وزارتوں کا حامل رہنما، ایک سیاسی طور پر نووارد اور بزرگ خاتون کے مقابلے میں صرف انتظامی مشینری اور متنازع فارم 47 کے سہارے بمشکل جیت سکے، تو یہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ عوام میں ان کی حقیقی مقبولیت اب نہیں رہی۔ خواجہ آصف کے غیر پارلیمانی رویے، کشمیریوں کی شناخت پر متنازع بیانات، اور اپنے مخالفین کے خلاف تلخ اور جارحانہ زبان کا استعمال — یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے حلقے کے عوام کو ان سے دور کیا ہے۔ ایک ایسا سیاستدان جو کبھی سیالکوٹ میں بلامقابلہ جیتنے کا حوصلہ رکھتا تھا، آج ایک گھریلو پس منظر رکھنے والی، پہلی بار میدان میں اترنے والی بزرگ خاتون کے سامنے بمشکل اپنی نشست بچا پایا — یہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ ان کی سیاسی زمین ان کے پاؤں تلے سے کھسک رہی ہے۔
عثمان ڈار کے سیاسی منظرنامے سے وقتی طور پر دور ہونے کے باوجود ان کی والدہ کا میدان میں اترنا اور اتنی سخت ٹکر دینا اس بات کی علامت ہے کہ عوام کسی خاندانی یا سیاسی پس منظر سے زیادہ کارکردگی اور دیانتداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواجہ آصف کے جھوٹے دعوے اور بلند بانگ باتیں اب حلقے کے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں ان کی سیاسی بقا خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
سابق پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز ڈار، جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے پی ٹی آئی کی حمایت سے میدان میں اتریں، انتخابی نتائج کے ابتدائی مراحل میں خواجہ آصف پر واضح برتری کے ساتھ آگے تھیں۔ نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ کے مطابق، بعض مراحل پر ان کی برتری ہزاروں ووٹوں کی تھی۔ مگر جیسے جیسے حتمی نتیجہ سامنے آیا، صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور آخرکار خواجہ آصف کو فاتح قرار دے دیا گیا — ایک ایسی تبدیلی جس نے فوری طور پر شکوک و شبہات کو جنم دیا۔
سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق خواجہ آصف نے 118,566 ووٹ حاصل کیے جبکہ ریحانہ ڈار 100,272 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ لیکن یہ فرق، جو حتمی طور پر سامنے آیا، ان ابتدائی رجحانات سے یکسر متصادم تھا جو گنتی کے دوران نشر ہوتے رہے۔
ریحانہ ڈار کا مرکزی الزام یہ تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے فارم 45 کے مطابق وہ خواجہ آصف پر واضح برتری رکھتی تھیں، مگر ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ حتمی فارم 47 میں نتائج کو تبدیل کر کے خواجہ آصف کو فاتح ظاہر کیا گیا۔ انھوں نے اس بنیاد پر ریٹرننگ افسر، الیکشن کمیشن اور خود خواجہ آصف کو فریق بناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی، جس میں فارم 47 کو کالعدم قرار دینے، دوبارہ گنتی کروانے، اور فارم 45 کی بنیاد پر نتائج جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔
اپنے موقف کی حمایت میں ریحانہ ڈار نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ڈی پی او، ڈی سی اور ریٹرننگ افسر کی مبینہ دھاندلی کی ویڈیوز موجود ہیں، اور یہ کہ خواجہ آصف مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے نتائج تبدیل کروانے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے سیالکوٹ کی سڑکوں پر احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے "چھینے گئے مینڈیٹ” کی بازیابی کے لیے ان کا ساتھ دیں۔
اس تنازع کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی ریحانہ ڈار کی درخواست پر نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرنی پڑی، اور معاملہ کئی ہفتوں تک زیرِ التوا رہا۔ یہ محض ایک ہارنے والی امیدوار کی جذباتی رنجش نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے ریاستی اداروں نے بھی سنجیدگی سے لیا۔
جب کسی سینیئر سیاستدان جیسے خواجہ آصف کی جیت پر اس نوعیت کے سوالات اٹھیں، خاص طور پر جب فارم 45 اور فارم 47 کے درمیان تضاد کا الزام ہو تو یہ محض ایک حلقے کا مسئلہ نہیں رہتا ۔ عوام کا یہ حق ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کا ووٹ درست طور پر شمار ہوا یا نہیں، اور جب ایک بارسوخ اور طاقتور امیدوار کے خلاف اس نوعیت کے الزامات سامنے آئیں تو شفاف اور فوری تحقیقات ناگزیر ہو جاتی ہیں۔
ریحانہ ڈار کا یہ مؤقف کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا، محض ایک شکست خوردہ امیدوار کا بیان نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود خواجہ آصف اور متعلقہ اداروں کو دینا چاہیے تھا — واضح، شفاف اور قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ۔
