بنان میں سرگرم مسلح تنظیم حزب اللہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے اعلان کے بعد سے تنظیم نے کوئی عسکری کارروائی نہیں کی۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران امریکا معاہدے کے بعد خطے میں صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی ہے اور حزب اللہ نے اپنی جانب سے کسی قسم کی کارروائی سے گریز کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کی جانب سے جنگ بندی پر مؤقف مکمل طور پر اسرائیل کے رویے سے مشروط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان میں اسرائیلی "حرکت کی آزادی” کو تسلیم نہیں کرتی اور خطے میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی سے متعلق امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط میں تاخیر کی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ایران امریکا معاہدے کے اثرات مختلف علاقائی گروہوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
