ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے پس منظر میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور خطے میں جنگ کے پھیلتے ہوئے خطرات کے باعث عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا تھی۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک کردار ادا کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل سفارت کاری کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی رابطے کیے۔ انہوں نے تہران، اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل، فریقین کے تحفظات کو دور کرنے اور مذاکراتی عمل کو تعطل سے نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔ اس دوران ان کے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں خطے میں امن و استحکام اور تنازع کے سیاسی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی قیادت کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد خطے میں مزید کشیدگی کو روکنا، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی معیشت کو ممکنہ بحران سے بچانا تھا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحدی قربت، امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور نسبتاً متوازن مؤقف نے اسے دونوں ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے لانے میں مدد دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے شدید بداعتمادی کے ماحول میں دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مؤثر علاقائی ثالث کے طور پر عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی۔
اگرچہ یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اور امریکہ مستقبل کے مذاکرات میں اپنے اختلافات کو کس حد تک کم کر پاتے ہیں۔ اس کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں نے پاکستان کے بین الاقوامی کردار کو اجاگر کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان پیچیدہ علاقائی تنازعات کے حل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
