امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے مستقبل میں اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کی تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کیا تو امریکہ دوبارہ طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ تہران کو اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لانا ہوگی، بصورت دیگر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ابھی مکمل طور پر حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی اور اس میں فوری طور پر پابندیوں کے خاتمے یا معاشی ریلیف کی ضمانت شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئندہ مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر مزید پیش رفت درکار ہوگی۔
ٹرمپ نے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ پہلے ہی جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے جبکہ آئندہ ایک یا دو روز کے دوران اسے مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی تیل کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
