ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، مذاکرات کل متوقع، جے ڈی وینس

Iran nuclear talks: Deadlock over US red lines persists, JD Vance

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ عالمی توانائی کی اہم ترین گزرگاہ کو حقیقتاً بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ان کا آئندہ 2 روز میں سوئٹزر لینڈ جانا متوقع ہے۔ تاہم اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں، ایران سے مذاکرات کل متوقع ہیں۔ امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران سے مذاکرات کے لیے چیزیں ٹھیک جا رہی ہیں، جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے پُراعتماد ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب تک ایسی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں جن سے ثابت ہو کہ ایران نے سمندری آمدورفت مکمل طور پر روک دی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحری راستوں کی نگرانی کرنے والے اداروں، امریکی نیوی اور اتحادی ممالک کے پاس ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور بین الاقوامی تجارت میں کسی بڑے تعطل کے شواہد نہیں ملے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے