ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد ندیم بخاری نےکہا ہے کہ انسانی پلیسینٹا کی بیرون ملک اسمگلنگ میں ایک مضبوط نیٹ ورک ملوث تھا ۔ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں جاری ۔ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔
انسانی اعضا ملنےکےمعاملے پر صحافیوں سےغیررسمی گفتگو میں شہزاد ندیم بخاری کا مزید کہنا تھا اس معاملے میں اسپتالوں کے چھوٹے عملے، ایجنٹ اور غیرملکیوں کا گٹھ جوڑ تھا ۔ ملزمان انسانی پلیسینٹا کو پیکنگ کے بعد ویتنام منتقل کرتے تھے ۔ جہاں انسانی پلیسینٹا سے کولیجن شاٹ اور جلد کو جوان رکھنے کی گولیاں بنائی جاتی تھیں ۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا پانچ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے مگر ان میں کوئی بھی ڈاکٹر شامل نہیں ۔ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے رہے ہیں ، اسلام آباد میں دو مقامات پر چھاپے مار کر شواہد اکٹھے کئے گئے ۔
لاہور ، پشاور اور راولپنڈی میں چھاپے کامیاب رہے ہیں ۔ یہ معاملہ کرپشن کے ساتھ ساتھ انسانی تقدس کی پامالی کا بھی ہے
