پاکستان اور اٹلی کے درمیان 6.3 ارب روپے کے رعایتی قرض کا معاہدہ طے پا گیا،وزارت اقتصادی امورکےسیکرٹری محمد حمیر کریم اور اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے 2 کروڑیورو کے مساوی معاہدے پر دستخط کیے۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو زرعی شعبے میں مضبوط بنایا جائے گا،جدید اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع ہوں گے،اس سے کسانوں اور توسیعی عملے کی استعداد کار بڑھائی جائے گی، پروگرام کا مقصد زرعی پیداوارمیں اضافہ، پائیدارزرعی طریقے،دیہی عوام کے معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ اعلیٰ قدر کی حامل زرعی فصلوں کی ترقی اور زرعی و غذائی ویلیو چینز کو مضبوط بنایا جائےگا،باغبانی کی پیداوار، پراسیسنگ،مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کیلئے خصوصی تربیتی مراکز قائم ہوں گے،منصوبے کے تحت زیتون، پستہ، کھجور،مشروم، چیری، انگور، آڑو،بادام جیسی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائےگی۔
جدید اطالوی زرعی مہارت اور پاکستان کی وسیع زرعی استعداد سے فائدہ اٹھایا جائے گا، 42 ماہ پرمشتمل اس پروگرام کےدوران مجموعی طور پر 720 تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے،ان تربیتی کورسز سے 18،398 افراد مستفید ہوں گے، منصوبے کے تحت زراعت کے شعبے کیلئے 11 معیاری تربیتی نصاب بھی تیار کیے جائیں گے۔
12 ماڈل باغات اور نرسریاں قائم کی جائیں گی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ 8 ماحول دوست دیہات بنائے جائیں گے، 5 زرعی و غذائی پراسیسنگ یونٹس اور 2 قومی مراکزِ امتیاز قائم ہوں گے، سرگودھا میں کینو و مالٹے اور تربت میں کھجور کی پیداوار کیلئے قومی مراکز امتیازبنیں گے،
صوبائی محکمہ زراعت کے تعاون سے پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ اس منصوبے پرعملدرآمد کرےگا۔ منصوبے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، منصوبے سےکسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، پروگرام کے باعث پوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں کمی آئے گی۔
