وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سما ء ٹی وی کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کی بلوچستان ایران بارڈر سےآمدورفت تھی،دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے سیکیورٹی فورسز جانیں دے رہی ہیں،دہشتگردوں سے لڑنا پڑے گا،اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
تفصیلات کے مطابق طارق فضل چوہدری کا کہناتھا کہ دہشتگردوں کو طاقت سے شکست دینا ہو گی،سیاستدانوں میں اتحاد کا نہیں،ترجیحات کا فقدان ہے،قومی مفاد دوسرے نمبر پر چلا جائے تو پھر ہماری ترجیحات درست نہیں، دہشتگردی کے خلاف سیاسی جماعتیں ساتھ بیٹھیں، اپنی انا پیچھے رکھ کر قومی مفاد کیلئے کام کرنا ہو گا۔
ان کا کہناتھا کہ اپوزیشن لیڈر نے مثبت بات کی،اللہ کرے ساتھ بیٹھ جائیں،ہماری لڑائیاں پیچھے،ملکی لڑائی سب سے پہلے ہے،بانی پی ٹی آئی نے جو کیاتھا وہی بھگت رہےہیں،تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست پیچھے رکھ کر ملک کوآگے رکھنا چاہیے،سیاستدان انا پیچھے چھوڑ کر ساتھ بیٹھ گئے تو ملک درست ہو جائے گا۔
وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ مولانافضل الرحمان کالعدم ایکشن کمیٹی سے بات کریں،جوگارنٹی چاہیے ہم دیں گے، مہاجرین کی12نشستیں ختم نہیں ہو سکتیں،کالعدم ایکشن کمیٹی کیساتھ زیادتی نہیں ہو گی،قانون کا سامنا کریں،گارنٹی دیتے ہیں کالعدم ایکشن کمیٹی کیساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا،لیکن قانون کا سامنا کرنا ہو گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے جن لوگوں پر کیسز نہیں وہ الیکشن لڑیں،مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ آزاد کشمیر اسمبلی میں لے جائیں،ہمیں اعتراض نہیں،ریاست تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی۔
