وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت آزاد، ذمہ دارانہ اور خودمختار صحافت کے فروغ کے ساتھ صحافیوں کو محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کارکن صحافیوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا کالونیز کے قیام، فزیبلٹی اور ڈیزائن کے لیے 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے 15 کروڑ روپے، صوبے بھر کے ضلعی پریس کلبوں کی بحالی کے لیے 30 کروڑ روپے اور انفارمیشن سیکٹر میں جدت و ترقی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کی مالیت 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کے بقایا جات کی ادائیگی کارکن صحافیوں کے واجبات اور کم از کم اجرت کی ادائیگی سے مشروط بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کی ترقی کے ساتھ کارکن صحافیوں کے بہتر حالاتِ کار اور فلاح و بہبود بھی حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے نیو پشاور ویلی سٹی میڈیا انکلیو کے منصوبے پر صحافیوں کو اعتماد میں لینے اور قواعد و ضوابط کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی، جبکہ صحافیوں کے لیے مطالعاتی دوروں کے انعقاد کی بھی ہدایت جاری کی۔
اس موقع پر پشاور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری نے وزیراعلیٰ کو پریس کلب کے دورے اور نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھنے کی دعوت بھی دی۔
