ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں نئے صوبوں کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا پاکستان کے موجودہ صوبے قانونی تقاضوں پر نہیں بنائے گئے تھے، آج ملک میں جو صوبے ہیں وہ لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، زیادہ آبادی کے باوجود یہ صوبے انتظامی یونٹ ہیں، آبادی کی رفتار سے زیادہ ملک بھر میں اضلاع بنا دیے گئے، لیکن آبادی کے بڑھنے کے باوجود صوبے نہیں بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے نا بنانے کے جو اثرات آئے ہیں اس پر بھی بات کرنی چاہیے، ہم نے جو تجویز پیش کی اس پر ملک کی مختلف جماعتیں آواز سے آواز ملارہی ہیں، ملک بھر کے افراد سے کہتے ہیں آئیں اس پر ڈائیلاگ شروع کرتے ہیں، اس پر ایک بڑے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا ہم صرف اپنے لے یہ نہیں کہہ رہے بلکہ جہاں بھی صوبوں کی ضرورت ہے وہاں بننے چاہئیں، 18 ویں ترمیم کے گناہ میں اسی لیے شامل ہوئے کہ جمہوریت کے اثرات ہرجگہ پہنچیں، اٹھارہویں ترمیم پر چاروں صوبوں کو عمل درآمد کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔
اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے؟ خالد مقبول صدیقی
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا ہم نے آئین میں ترمیم کروائی جب عمل نا ہوا تو سپریم کورٹ بھی گئے، ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں، کراچی سمیت جہاں جہاں سے صوبے کی آواز بلند ہورہی ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں، سندھ میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، عوام کے جائز حق کو عوام تک پہنچانا غداری نہیں ہے، سپریم کورٹ جائیں گے اور کہیں گے کہ ان کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ارادی اور اختیاری سندھی اور ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں، جو سندھی بھائیوں نے ہمارا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے، ہم نے کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا، اگر وہ کہیں گے تو ہم تھینکس گیون ڈے بھی منالیں گے، آپ نے بیسیوں ترامیم کر دی ہیں، ایک ترمیم پاکستانی عوام کے لیے کردیں۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا ہم واپس ہندوستان اس لیے نہیں جائیں گے ہم آزادی لےکر آئے تھے، سندھ کی زمینوں کا 60 فیصد ہندوؤں کا تھا جو وہاں گئے اور ہمیں یہ ملا، ہم نے آئین میں صوبوں کا بل پیش کیا ہے اور وہ ابھی اسٹینڈنگ کمیٹی میں ہے، پیپلز پارٹی کے بانی نے یہ آئین بنایا تھا اس میں صوبوں کا ذکر موجود ہے، اگر یہ غداری ہے تو اس کو آئین سے کیوں نہیں نکالا گیا، سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی ڈائیلاگ کریں۔
ملک چلانے والوں کو بھی ادراک ہوگیا ہے کہ ملک کو بچانےکا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا ہمیں وہ نظام چاہیے جہاں ہمارے حقوق اور مسائل حل ہوں، میرے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ میں اپنا حکمران تبدیل کرسکوں، سندھ کے دیگر حصوں کی حالت کراچی اور حیدرآباد سے زیادہ بدترین ہے، نسل تر نسل ایسا ہو رہا ہے، وہاں لوگوں نے اسے تقدیر کا حصہ سمجھ لیا ہے، ہم نے اس پر آواز اٹھائی ہے، اس سے ان لوگوں کو بھی آواز ملے گے۔
انہوں نے کہا کہ 18 سال میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے، 22 ہزار ارب روپے ملنے کے بعد سندھ کو دنیا کی بدترین جگہ بنا دیا ہے، یہ تقسیم نہیں ہے ضلعی انتظامات پر گفتگو ہے، انتظامی یونٹس بنانا سندھیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کے حق میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کراچی اور حیدرآباد سندھ کا 43 فیصد ہے، یہ انتظامی یونٹس بنیں گے تو سندھ کے کسانوں کو بھی اختیار ملے گا، کراچی کو انسانوں کے رہنے کے بدترین شہر میں لا کر کھڑا کردیا گیا ہے۔
اگر انتظامی یونٹ ہو تو صوبے کا ایک کسان بھی وزیر اعلیٰ تبدیل کرسکتا ہے: وفاقی وزیر برائے صحت
وفاقی وزیر کا کہنا تھا ہم نے یہ بات شروع نہیں کی، محسن نقوی پیپلز پارٹی کے بہت بڑے ساتھی ہیں، محسن نقوی کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات کی تائید کی، ہم کہتے رہے مگر انہوں نے طاقت کے نشے میں ہماری بات نہیں مانی، اب ملک چلانے والوں کو ادراک ہوگیا ہے کہ ملک کو بچانےکا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے۔
ان کا کہنا ہے ہم تو محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی صوبوں پر بیان کی تائید کررہے ہیں، اگر انتظامی یونٹ ہو تو صوبے کا ایک کسان بھی وزیر اعلیٰ تبدیل کرسکتا ہے
