قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ دونوں فریقوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ مذاکرات میں سوئٹزرلینڈ کے لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کو بھی زیر غور لایا گیا، جہاں گزشتہ ماہ دونوں فریقوں کے درمیان مزید مشاورت ہوئی تھی۔
ماجد الانصاری کے مطابق مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اگلی ملاقات سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد جلد از جلد منعقد کی جائے گی۔
قطری ترجمان نے مزید کہا کہ ثالثی کی کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا اور سفارتی عمل کو برقرار رکھنا ہے۔
