1872 میں تعمیر ہونے والی یہ 153 سالہ قدیم مسجد، جسے عام طور پر راجوں کی مسجد کہا جاتا ہے، کبھی پرانے خان پور شہر کے مرکز میں واقع تھی، 1970 کی دہائی کے آخر میں خان پور ڈیم کی تعمیر کے بعد پورا قدیم شہر زیرِ آب آ گیا، جس کے باعث مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، جبکہ مسجد اور اس کے قریب واقع شاہی محل پانی میں ڈوب گئے۔
یہ شاہی محل راجہ جہانداد خان نے تعمیر کروایا تھا، جو سابق وزیراعلیٰ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) راجہ سکندر زمان خان کے دادا تھے، اپنے دور میں یہ محل علاقے کی شاندار ترین رہائش گاہوں میں شمار ہوتا تھا، پرانے شہر کے رہائشیوں کے لیے مسجد راجگان آج بھی اپنی جڑوں، شناخت اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔
82 سالہ حاجی فضل دین، جن کا بچپن اسی شہر میں گزرا، کہتے ہیں کہ ہمارے دل آج بھی وہیں بستے ہیں، ہم نے مسجد راجگان کی اذان سنتے ہوئے بچپن گزارا، آج بھی عید کے موقع پر یہاں آنا پرانی یادوں اور روحانی سکون کو تازہ کر دیتا ہے۔
ماہر کاریگروں کی تعمیر کردہ یہ مسجد مغل طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، اس میں دو بڑے اور دو چھوٹے مینار، ایک مرکزی گنبد اور دہلی کی جامع مسجد سے متاثر عظیم الشان محرابی دروازے موجود ہیں، سیاہ پتھر اور مقامی اینٹوں سے تعمیر کی گئی اس مسجد میں ایک وقت میں تقریباً ایک ہزار نمازی عبادت کر سکتے تھے۔
آج یہ تاریخی مسجد زیادہ تر ویران رہتی ہے اور صرف عید کے موقع پر، جب پانی کی سطح کم ہونے سے یہاں رسائی ممکن ہوتی ہے، نماز ادا کی جاتی ہے، مون سون کے موسم میں پانی دوبارہ مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جبکہ موسموں کے مسلسل اثرات کے باعث عمارت کے کئی حصے کمزور ہو چکے ہیں، مستقل دیکھ بھال اور سرکاری تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے اس تاریخی ورثے کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مقامی لوگوں کے نزدیک یہ مسجد صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ ان کے ایمان، شناخت اور تاریخ کی زندہ علامت ہے۔
مسجد کے قریب راجہ جہانداد خان کے محل کے آثار بھی موجود ہیں، جو ڈیم کی تعمیر کے بعد تباہ ہو گیا، تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس محل کی تعمیر میں تقریباً دس سال لگے اور اس پر اس دور میں تقریباً 12 لاکھ روپے لاگت آئی۔ محل میں بیلجیئم سے درآمد شدہ شیشے اور اٹلی کی تیار کردہ ٹائلیں نصب تھیں۔
تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اہمیت کے باوجود مسجد راجگان کو اب تک سرکاری سطح پر تاریخی ورثے کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور مقامی رہائشی مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسجد کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
مقامی بزرگ بشیر احمد کہتے ہیں کہ یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں، بلکہ ہمارے ایمان، ہماری شناخت اور ہماری تاریخ کی علامت ہے، جب تک یہ قائم ہے، ہماری برادری کا ایک حصہ بھی زندہ رہے گا۔
مسجد راجگان ان تاریخی مقامات میں شامل ہے جو ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے پر وقتاً فوقتاً دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں، پاکستان میں منگلا ڈیم سے شاہ دولہ کا مزار بھی بعض اوقات ظاہر ہوتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں اسپین کا زیرِ آب گاؤں ایکیریڈو، مصر کا قدیم شہر ہیرالکیون اور عراق میں دریائے دجلہ کے کنارے موجود آثارِ قدیمہ بھی پانی کم ہونے پر دوبارہ منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔
