محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگراموں سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں انہوں نے شمالی وزیرستان میں ایک ہفتے کے اندر ترقیاتی سرگرمیاں بحال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں پر کام کی بحالی کے لیے درکار افسران اور اہلکار فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی، رواں مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جائے۔
محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ضم اضلاع فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی لیے جدید اسلحہ اور جدید آلات کی فراہمی میں ان اضلاع کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں صحت کے شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق مزید ڈاکٹرز بھرتی کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
