سندھ طاس معاہدے کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا،وزیر دفاع

دریا صرف پانی نہیں بلکہ کھیتوں کی ہریالی اور قوم کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر پوری پاکستانی سیاسی قیادت یک زبان ہوگئی۔ آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایک آواز ہو کر پانی کے لٹیرے دشمن کو واضح پیغام دے دیا۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات پر پاکستان کی پوری سیاسی قیادت کا غیرمعمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنانے کی کوئی کوشش قبول نہیں کی جائے گی، سیاسی قیادت کا پیغام آگیا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے ہر قیمت پر اس کا دفاع کیا جائے گا اور کسی دباؤ یا یکطرفہ کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ معاہدے کے تحت پانی پاکستان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ اخلاقی جواز ، نہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔

سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، بیرسٹر دانیال چوہدری، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، میر ضیاء اللہ لانگو بلوچ، عظمیٰ بخاری، بیرسٹر عقیل ملک، بلال اظہر کیانی اور ناز بلوچ نے بھی کہا کہ مشترکہ دریاؤں پر یکطرفہ اقدامات عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

تمام رہنماوں نے زور دیا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا اور سندھ طاس معاہدے کا احترام ہی خطے کے امن، استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے