دماغ خور جرثومے نیگلیریا سے کراچی میں رواں سال کی تیسری ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 4 کے رہائشی 44 سال کے محمد امجد نامی مریض کو تیز بخار کی حالت میں نجی اسپتال لایا گیا تھا۔ مریض کی حالت بگڑنے پر آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا
ڈاکٹر کے مطابق تشخیص ٹیسٹ میں نیگلیریا کی تصدیق ہوئی، رواں سال کا پہلا کیس فروری میں گلشن اقبال سے رپورٹ ہوا۔ دوسرا کیس جون میں اورنگی ٹاؤن سے رپورٹ ہوا تھا۔
نیگلیریا ایک جرثومہ ہے جو کہ صرف خورد بین کے ذریعے سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ جرثومہ انسانی دماغ میں ناک کے ذریعے سے داخل ہوتا ہے اور شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
یہ جرثومہ پانی کے ذخائر میں پھلتا پھولتا ہے اور اسی وجہ سے شہروں میں جان لیوا بیماری کاباعث بنتا ہے۔ اس بیماری سے 95فی صد لوگ جانبر نہیں ہو سکتے اور موت واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
نیگلیریاکی علامات جرثومے کے جسم میں داخل ہونے کے 2سے 3دن کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ سرمیں شدید درد، بخار، متلی اور قے علامات ہیں۔
نیگلیریا سے بچاؤ کےلیے پانی ذخیرہ کرنے والے انڈر گراؤنڈ اور اوورہیڈ ٹینکوں کی فوراً صفائی کروائیں۔ پانی کے ٹینکوں پر ڈھکن رکھوائیں۔ پانی کو تقریباً 5-8منٹ تک اُبالیں ۔ اس سے یہ جرثومہ اور اس کے انڈے ختم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کے استعمال کے دوران خصوصی احتیاط برتی جائے اور ناک میں غیر محفوظ پانی جانے سے گریز کیا جائے۔
