ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں، متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان دہشت گرد کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ منگی ڈیم، کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، زیارت میں کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشت گرد اپنی 15 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، گزشتہ تینوں واقعات میں وطن عزیز کے دفاع کے دوران مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ آج کیے گئے دو آپریشنز میں مزید 14 دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
