وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات معطل کر دیئے۔ عدالت نے کمیشن کے خلاف انکوائری، کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز روکنے اور ناکام امیدواروں کے امتحانی پرچے دوبارہ چیک کرنے کے احکامات بھی معطل کر دیئے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی روک دی۔
وفاقی آئینی عدالت سے سندھ پبلک سروس کمیشن کو بڑا ریلیف مل گیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے 14 مئی، 21 مئی، 9 جون، 17 جون، 22 جون اور 30 جون کے احکامات معطل کردیے۔ کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز روکنے اور ناکام امیدواروں کے پرچے دوبارہ چیک کرنے سے بھی روک دیا۔
جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ نے عبوری حکم نامے میں ہی حتمی نوعیت کا ریلیف دے دیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق درخواست میں درج استدعا سے بڑھ کر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
ناکام امیدواروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کرپشن اور اقربا پروری کا گڑھ بن چکا ہے۔ ماضی میں سندھ ہائی کورٹ پبلک سروس کمیشن کو ختم کرنے کا حکم بھی دے چکی ۔ بعد میں نئے قواعد و ضوابط کے تحت اسے دوبارہ فعال کیا گیا۔
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عبوری ریلیف دیا۔ عدالت نے اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
