غیر ملکی صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کرنے پرکمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید

امریکی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قواعد سخت کیے جانے پر صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ویزا ضوابط سے بین الاقوامی صحافیوں کی امریکا تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جو آزادیٔ صحافت کے اصولوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سی پی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر ملکی صحافیوں کی امریکا آمد پر عائد نئی پابندیاں آزاد صحافت کے لیے تشویشناک ہیں اور امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ صحافیوں سے متعلق نئی پالیسی واپس لے۔

تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحافیوں کے ویزا سے متعلق فیصلوں میں ان کی رپورٹنگ یا صحافتی کام کو بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ایسی پابندیاں عالمی سطح پر آزاد صحافت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کے آئی (I) ویزا کی زیادہ سے زیادہ مدت 240 دن، یعنی تقریباً آٹھ ماہ مقرر کر دی ہے۔ اس سے قبل صحافیوں کو عموماً اپنی ملازمت یا رپورٹنگ اسائنمنٹ کی مدت تک امریکا میں قیام کی اجازت حاصل ہوتی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ویزا کی مدت ختم ہونے پر غیر ملکی صحافیوں کو امریکا میں قیام جاری رکھنے کے لیے دوبارہ توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔

English Tags: CPJ, Committee to Protect Journalists, Donald Trump, US Visa Policy, Foreign Journalists, Press Freedom, Journalism, Media, United States, I Visa, International Media, Freedom of Press

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے