اسلام آباد: موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کی غذائی سلامتی کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، غیر معمولی بارشوں، سیلابوں، خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث اہم فصلوں خصوصاً گندم اور چاول کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی جائزوں کے مطابق پاکستان میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے، جس سے زراعت کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
زراعت ناصرف ملکی معیشت کا اہم ستون ہے بلکہ لاکھوں دیہی خاندانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کے میڈیا ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی قومی غذائی سلامتی کا معاملہ بن چکی، بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، سیلاب اور خشک سالی فصلوں کے پیداواری چکروں کو متاثر کر رہے ہیں۔
