روس نے یوکرین پر رات بھر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرتے ہوئے درجنوں میزائلوں اور سینکڑوں ڈرونز داغ دیے، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روس نے حملوں میں 70 سے زائد میزائل اور تقریباً 280 ڈرونز استعمال کیے۔ ان کے مطابق دارالحکومت کیف اور مغربی علاقے لیویو (Lviv) حملوں کا بنیادی ہدف رہے۔
یوکرین کی فضائیہ نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے، تاہم کئی حملوں میں رہائشی علاقوں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی میزائل حملوں سے شہریوں کا تحفظ یوکرین کی اولین ترجیح ہے، جبکہ اتحادی ممالک کی جانب سے فضائی دفاعی نظام اور اینٹی بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر انسانی جانوں کے مزید ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرینی فضائی دفاعی یونٹوں کی غیر معمولی مہارت نے مزید بڑے جانی نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب یورپی یونین اور نیٹو کے رکن پولینڈ نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے۔ پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک روسی کروز میزائل مشرقی پولینڈ میں ایک کھلے میدان میں گرا، جہاں ایک بڑا گڑھا اور ملبہ ملا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
