غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہے، جن میں طبی ذرائع کے مطابق کم از کم 18 فلسطینی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور حماس کی تخفیفِ اسلحہ سے متعلق پیش رفت کے دعوے سامنے آئے تھے، تاہم اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ حملے روکنے کے لیے ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر، دیر البلح، خان یونس، المواصی، جبالیہ اور زیتون کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں رہائشی مکانات، اپارٹمنٹس اور بے گھر افراد کے خیمے بھی متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔
اسرائیل کے وزیرِ توانائی اور سیکیورٹی کابینہ کے رکن ایلی کوہن نے کہا کہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح ہونے کا موقع دینے کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت کو اس حوالے سے شدید شکوک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں حملے روکنے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا اور اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو اسرائیل غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا آپشن برقرار رکھے گا۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان ڈورون سپیل مین نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیل نے حماس کی تخفیفِ اسلحہ سے متعلق امریکی منصوبے پر اپنے سیکیورٹی تحفظات واشنگٹن کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے نزدیک کسی بھی سیاسی پیش رفت سے پہلے حماس کا مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دیر البلح میں ہونے والا ایک حملہ حماس کی ایلیٹ "نخبہ فورس” کے دو کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، جبکہ غزہ شہر اور جبالیہ میں بھی عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔
