پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے نائب وزیراعظم اور وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو خط لکھ کر ملک میں موجود سرپلس چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 15 جولائی 2026 تک ملک میں 34 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملک میں چینی کی اوسط ماہانہ کھپت 5 لاکھ 67 ہزار میٹرک ٹن ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق آئندہ کرشنگ سیزن کے آغاز پر بھی 11 لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہوگا، جبکہ اگلے سیزن میں گنے کی بمپر فصل متوقع ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی ضرورت سے زائد 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ستمبر میں گنے کی کاشت کا وقت قریب ہے، تاہم چینی کی برآمد نہ ہونے کے باعث کاشتکار نئی فصل کی کاشت کے حوالے سے تذبذب اور پریشانی کا شکار ہیں۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر 5 لاکھ 85 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ اسٹریٹیجک ذخائر کے لیے مختص چینی کو بھی نئے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
