مشرق وسطیٰ کشیدگی کےمنفی اثرات اورآئی ایم ایف کادباؤ،وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 173 ارب روپےکی بڑی کٹوتی کر دی گئی۔
پی ایس ڈی پی ایک ہزارارب روپےسےکم ہوکر 837 ارب روپےرہ گیا،پہلےمرحلےمیں 100 ارب روپے اب دوسرےمرحلے میں مزید 73 ارب کٹوتی کردی گئی۔
حکام وزارت منصوبہ بندی کےمطابق آئی ایم ایف شرائط پوری کرنےکیلئےترقیاتی اخراجات کم کیےگئے، مشرق وسطیٰ کشیدگی کےاثرات سےبجٹ دباؤکاشکارہے،سڑکوں کی تعمیر کےفنڈزمیں سب سے زیادہ 38 ارب روپےکمی کی گئی،پانی کےمنصوبوں کیلئے 23 ارب اورصوبائی اسکیموں میں 22.5 ارب کمی ہوگئی۔
وزارت منصوبہ بندی اورارکان پارلیمنٹ کی زیادہ تراسکیمیں برقرارہیں،رواں مالی سال کیلئےایک ہزار ارب روپےسےزائد کا ترقیاتی بجٹ منظورہوا تھا،پہلے 9 ماہ میں صرف 41 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہوسکا۔
