آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان میں اہم پیش رفت، محفوظ بحری راستے پر اتفاق

Iran working on new “management plan” for the Strait of Hormuz, ship bans and toll fees possible

مشرق وسطیٰ کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک تجارتی جہازوں کے لیے مجوزہ محفوظ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر متفق ہو گئے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جسے جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ محفوظ شپنگ روٹ کے بنیادی جغرافیائی نکات پر عمان کے ساتھ اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی تیسرے فریق، خصوصاً امریکا یا اسرائیل، کی جانب سے مداخلت ہوئی تو معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ محفوظ بحری راستے پر اتفاق اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اس سے آبنائے ہرمز میں مکمل سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ خطے کا امن اور سمندری سلامتی وسیع تر سیاسی اور عسکری صورتحال سے بھی وابستہ ہے۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق زیر غور معاہدے میں جہازوں کی آمد اور روانگی کے لیے الگ الگ بحری راستے تجویز کیے گئے ہیں۔

ممکنہ منصوبے کے تحت:

  • خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی والے راستے سے گزریں گے۔
  • خلیج فارس سے باہر جانے والے جہاز عمان کے زیر انتظام راستہ استعمال کریں گے۔

اس انتظام کا مقصد بحری ٹریفک کو بہتر بنانا اور تصادم یا کشیدگی کے خدشات کم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران بحری گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں سے سروس فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب عمان نسبتاً کم فیس کی تجویز دے رہا ہے، جبکہ امریکا لازمی فیس یا ایران کو خصوصی اختیارات دینے کی مخالفت کر رہا ہے۔

یہی نکات اب بھی مذاکرات میں مکمل اتفاق کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے