مذاکرات حوصلہ افزا، لیکن آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران پر سخت حملہ ہوگا، ٹرمپ

Hormuz

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اگر بحری گزرگاہ دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکا سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ دن بھر جاری رہنے والے مذاکرات حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امید ہے کہ آبنائے ہرمز جلد بحال ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں اور کئی اہم امور پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی کچھ معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق زیرِ غور معاہدے کے دو بنیادی نکات یہ ہیں:

  • آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی بحالی۔
  • ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جامع اور مستقل حل۔

انہوں نے کہا کہ اگر باقی اختلافات بھی ختم ہو گئے تو معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہ کھولا گیا تو امریکا سخت جواب دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے