پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی

یہ نوادرات اب اسلام آباد میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جہاں پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے آنے والے غیر ملکی ماہرین اور سیاح بھی ان تاریخی اشیا کو دیکھنے پہنچ رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان نوادرات کی واپسی کا عمل کئی برسوں سے جاری تھا اور مختلف ممالک کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ان اشیا کی نشاندہی اور واپسی ممکن ہوئی۔

پاکستانی وزارت ثقافت سے وابستہ ایک ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک موجود پاکستانی نوادرات کی بازیابی کے سلسلے میں سبھاش کپور کا کیس بھی اہم ہے، سبھاش کپور انڈیا سے تعلق رکھنے والا ایک معروف آرٹ ڈیلر اور نوادرات کا کاروبار کرنے والا شخص تھا، جس پر جنوبی ایشیا سے قدیم نوادرات غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے الزامات تھے۔

آرٹ ڈیلر سبھاش کپور کو انڈیا میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں طویل قید کی سزا سنائی، امریکا میں موجود بعض نوادرات کی تحقیقات کے دوران امریکی اداروں نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا، اس کے بعد پاکستان نے قانونی اور سفارتی طریقہ کار مکمل کرتے ہوئے اپنی تاریخی اشیا واپس حاصل کیں۔

ذرائع کے مطابق واپس حاصل کی جانے والی تمام اشیا کسی پاکستانی میوزیم سے چوری نہیں ہوئی تھیں بلکہ بعض نوادرات ایسی تھیں جو تقسیمِ ہند سے پہلے ہی خطے سے باہر منتقل ہو چکی تھیں، جبکہ کچھ ایسی اشیا بھی تھیں جو طویل عرصے تک بیرونِ ملک نجی کلیکشنز میں موجود رہیں۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تعاون کا باقاعدہ نظام قائم کر رکھا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے 2023 میں بھی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ میں موجود پاکستانی نوادرات کی نشاندہی کے بعد امریکی اداروں نے پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد قیمتی اشیا واپس پاکستان پہنچیں، ان اشیا کی واپسی کے اخراجات بھی پاکستان نے خود برداشت کیے۔

نوادرات کی واپسی صرف امریکا تک محدود نہیں رہی، پاکستان نے اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے، ان ممالک کے متعلقہ اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بیرون ملک موجود پاکستانی ثقافتی ورثے کی نشاندہی میں مدد کی، جس کے بعد سفارتی رابطوں اور قانونی کارروائی کے ذریعے انہیں پاکستان واپس لایا گیا۔

پاکستانی وزارت ثقافت کا مؤقف ہے کہ قدیم ثقافتی ورثہ کسی دوسرے ملک کی مارکیٹ میں فروخت یا نجی ملکیت میں رکھنے کے بجائے اسی خطے کے لوگوں کے پاس ہونا چاہئے جہاں سے وہ دریافت ہوا۔

ان نوادرات میں گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے مجسمے اور دیگر فن پارے بھی شامل ہیں، بعض گندھارا فن پاروں پر بھارت کی جانب سے ملکیت کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ گندھارا تہذیب کا مرکزی خطہ موجودہ پاکستان کے علاقوں، خصوصاً پنجاب و خیبر پختونخوا، سوات، پشاور اور ٹیکسلا سے وابستہ رہا ہے۔

اسلام آباد میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئی اشیا مختلف ادوار اور تہذیبوں کی نمائندگی کرتی ہیں، ان میں مہرگڑھ کے ہزاروں سال پرانے ٹیراکوٹا مجسمے، وادیٔ سندھ کی تہذیب سے وابستہ اشیا، قدیم سکے، مٹی کے برتن اور گندھارا دور کے بدھ مت سے متعلق مجسمے شامل ہیں۔

بعض اشیا تقریباً ’سات ہزار سال پرانی‘ ہیں، جبکہ گندھارا تہذیب کے کئی فن پارے تقریباً دو ہزار سال پرانے ہیں۔ ان میں بدھا کے مجسمے، بودھی ستوا کے فن پارے، پتھر اور سٹوکو سے بنے مجسمے، قدیم ریلیف اور بدھ مت سے متعلق دیگر فن پارے شامل ہیں۔

جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی فنِ تاریخ کی ماہر ڈاکٹر ایستھر پارک گزشتہ 20 برس سے گندھارا تہذیب پر تحقیق کر رہی ہیں، گندھارا آرٹ صرف پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایشیا کی کئی تہذیبوں کے درمیان ایک اہم ثقافتی رابطہ بھی رہا ہے، چین، کوریا اور جاپان میں بدھ مت اور اس سے جڑی ثقافتی روایات کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے گندھارا ایک اہم مقام رکھتا ہے، پاکستان کو گندھارا آرٹ اور اس کے تاریخی ورثے کو دنیا بھر میں زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کرانا چاہئے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے