شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی ہے۔
عدالت نے بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔
سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی یہی سزا دی گئی ہے۔
امریکی پریس کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ منگل کو سنایا۔
عدالت نے بشار الاسد اور ماہر الاسد کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا۔
دونوں سابق حکومتی رہنما شام سے فرار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وہ دسمبر 2024 میں روس منتقل ہوگئے تھے۔
یہ پیش رفت باغی جنگجوؤں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد ہوئی۔
عدالت نے سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔
نجیب 2011 میں درعا میں سیاسی سکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے۔
ان پر حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کا الزام تھا۔
یہ مظاہرے مارچ 2011 میں درعا سے شروع ہوئے تھے۔
بعد میں یہ تحریک ملک گیر بغاوت میں تبدیل ہوگئی۔
عاطف نجیب کو عدالت میں سخت سکیورٹی کے ساتھ پیش کیا گیا۔
وہ قیدیوں کے لباس میں عدالت کے اندر موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق انہیں ایک چھوٹے پنجرے میں کھڑا کیا گیا۔
اسی دوران جج نے ان کے خلاف فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
نجیب شام کی فوج میں بریگیڈیئر جنرل رہ چکے ہیں۔
وہ بشار الاسد حکومت کے اہم سکیورٹی عہدیداروں میں شامل تھے۔
شام میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز 2011 میں ہوا تھا۔
یہ تحریک بعد میں طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔
اس جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔
کروڑوں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
مختلف مسلح گروہوں نے بھی اس تنازع میں حصہ لیا۔
جنگ نے شام کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔
