اسرائیل میں امریکی سفیر کی رہائشگاہ کے باہر نیتن یاہو کے خلاف احتجاج، حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

Protest against Netanyahu outside the residence of the US ambassador to Israel, demands withdrawal of support

اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سیاسی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں درجنوں مظاہرین نے امریکی سفیر مائیک ہکابی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور واشنگٹن سے نیتن یاہو کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سفیر ہکابی سے اپیل کی کہ وہ نیتن یاہو کی پشت پناہی بند کریں، جسے انہوں نے امریکا اور اسرائیل دونوں کے لیے “سلامتی، اسٹریٹجک اور اخلاقی بوجھ” قرار دیا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے نعرے لگائے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں اور قیادت کی مسلسل حمایت دونوں ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ کچھ شرکاء نے براہِ راست ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “غلط قیادت” پر اعتماد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس موقع پر اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سابق نائب سربراہ ایرن ایٹزیون نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ “غلط گھوڑے پر شرط لگا رہے ہیں” اور نیتن یاہو اب عوامی حمایت کھو چکے ہیں۔ ان کے مطابق صرف تقریباً 30 فیصد اسرائیلی شہری انہیں دوبارہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت نیتن یاہو کو نہ صرف عہدے کے لیے نااہل بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے، جبکہ امریکی عوام میں بھی ان کی پالیسیوں کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ایٹزیون کے مطابق “اسرائیلی اور امریکی عوام کی بڑی تعداد اب نئی قیادت اور نئی حکومت چاہتی ہے، جو شفافیت کے ساتھ کام کرے اور امریکا کو گمراہ نہ کرے۔”

یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی، داخلی سیاسی اختلافات اور جنگی پالیسیوں پر تنقید کے باعث اسرائیلی حکومت کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے