امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ ظاہر کرنے والا ایک متنازع نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ نقشہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا۔ نقشے میں آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ٹرمپ کی پوسٹ پر ایران کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نقشہ شیئر کرنے کو ان کے سابقہ بیانات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ امریکی صدر اس سے قبل آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی بات کرچکے ہیں۔ رپورٹس میں بحری ناکہ بندی سے متعلق امریکی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ناکہ بندی 13 اپریل سے نافذ ہے۔ تاہم جون میں اسے عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے دوبارہ بحال کردیا گیا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کے مؤقف کو غلط فہمی قرار دیا۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران یہ غلط فہمی جلد دور کردے گا۔ ان کے بیان سے ایران کے سخت سفارتی مؤقف کا اظہار ہوتا ہے۔
