میر رضا کی فیملی جوڈیشل کمیشن کے قیام کیخلاف سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئی

کراچی: میر رضا قتل کیس میں عدالت نے پولیس کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 7 ستمبر تک مہلت دے دی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی، تفتیشی افسر سراج لاشاری اور میر رضا کی فیملی کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت میں مزید مہلت کی درخواست دائر کردی جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے 7 ستمبر تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں اب تک کیا پروگریس کی ہے، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ موبائل فون ودیگر اشیاء کی فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے۔

 

قبل ازیں مقتول نوجوان تاجر میر رضا کے والد میر حسین علی، بہن علیشہ اور والدہ مریم سندھ ہائیکورٹ پہنچے جہاں وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے عدالت سے رجوع کریں گے۔

میر رضا علی کے والد میر حسین نے سندھ حکومت کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اپنے تحفظات اورعدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

 

میر حسین علی کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ  وہ اس سلسلے میں پیر کی صبح سندھ ہائیکورٹ سےرجوع کریں گے اورعدالت سے میررضا کیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی درخواست کریں گے۔

اس سے قبل میر ر ضا علی کی بہن علیشہ نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جوڈیشنل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متعلق میڈیا سے معلوم ہوا جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متعلق ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا آور نہ پی ہمیں ٹرم اینڈ ریفرنس بتائے گئے ہیں کہ کس بنا پر جوڈیشنل  کمیشن بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو 24 اگست کو عدالت میں رپورٹ جمع کرانی تھی اب تک اگر رپورٹ سامنے نہیں آئی تو کس بنیاد پر اس فیصلے کو لیا جا رہا ہے، کیا انہیں پہلے سے علم ہے کہ رپورٹ میں کیا ہے؟، کیا رپورٹ سے متفق یا غیر متفق ہیں؟، جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کا اصل گراونڈ کیا ہے ہمیں نہیں بتایا گیا ہے۔

میر رضا کی بہن نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے ساتھ نہیں کھڑے، ہم شروع سے کہہ رہے ہیں ہمیں جوڈیشل کمیشن پر اعتراض ہے۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ہمارا واحد مطالبہ جے آئی ٹی کی تشکیل ہے  تاکہ کیس کی تحقیقات آگے بڑھ سکے۔

واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ واقعے کی ابتدائی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹس سے متعلق مختلف سوالات سامنے آنے کے بعد میر رضا کے اہلخانہ نے موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے