پمز اسپتال کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آتشزدگی کو 14 گھنٹے سے زائد گزر گئے لیکن سانحے کے اصل ذمہ داروں کا تعین اب تک نہیں ہوسکا۔ معاملہ کمیٹیاں بنانے اور پھر تحلیل کرنے تک محدود رہا۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ اور پمز کی اپنی بنائی گئی کمیٹیاں تحلیل کردی گئی ہیں۔ اب صرف وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی ہی معاملے کی چھان بین کرے گی۔ دوسری جانب سی ڈی اے کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ نے اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر ہی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پمز کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے 14 معصوم بچوں کی جان لے گئی لیکن سی ڈی اے کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ نے ایک اور سنگین سوال کھڑا کر دیا۔ کیا یہ صرف شارٹ سرکٹ کا حادثہ تھا یا ناقص فائر سیفٹی انتظامات نے سانحے کو مزید ہلاکت خیز بنا دیا؟ سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے والے عملے کو پہنچنے میں صرف 6 منٹ لگے مگر موقع پر پہنچ کر جو صورتحال سامنے آئی وہ اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات اٹھا رہی ہے۔
سی ڈی اے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابقایمرجنسی راستے باہر سے بند اور بعض مقامات پر رکاوٹوں کا شکار تھے۔ فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات معیار کے مطابق نہیں تھے۔ سیکیورٹی عملے کی جانب سے ابتدائی رسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اتنا ہی نہیں، فائر کے مقام پر ناکافی کراؤڈ مینجمنٹ بھی مشاہدے میں آئی، یعنی امدادی کارروائی کے دوران بھی ہجوم کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
سانحے کو 14 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا مگر ابھی تک سانحے کی اصل وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ ضلعی انتظامیہ اور پمزاسپتال کی جانب سے بنائی گئی کمیٹیاں کام شروع کرنے سے پہلے ہی تحلیل کردی گئی ہیں۔
تمام تحقیقات اب وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کرے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی صرف وجوہات اور خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے یا ان خامیوں کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرکے عملی کارروائی تک پہنچتی ہے۔
