آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین کا کہنا ہے کہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت ہمارے برادر ممالک نے متعدد مخصوص اشیاء پر ٹیرف میں رعایتیں دینے کی راہ ہموار کی ہے۔ ترجیحی تجارتی معاہدے کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کی حوصلہ افزائی میں مدد دی ہے۔
آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں سفیر قاسم محی الدین نے کہا کہ تجارتی لین دین کے زیادہ مؤثر اور بروقت تصفیے کے لیے کسٹمز قوانین اور ضوابط کو ہم آہنگ کرنے اور کمرشل بینکوں کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کو مربوط بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
قاسم محی الدین نے کہا کہ اگرچہ دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان موجود بہترین سیاسی تعلقات کے شایانِ شان نہیں، تاہم دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کو مزید قریب لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان دونوں اہم معاہدوں کے نفاذ کے بعد باکو اور پاکستان کے مختلف تجارتی مراکز میں کاروباری اداروں کے درمیان بڑے پیمانے پر بزنس ٹو بزنس روابط اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکردہ چیمبرز آف کامرس اور کاروباری تنظیموں کے وفود بھی باقاعدگی سے باکو کا دورہ کر رہے ہیں اور مواقع تلاش کرنے کے لیے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں یہ دیکھ کر بھی خوشی ہے کہ آذربائیجان کے ممتاز کاروباری افراد پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ خوش آئند روابط ہمارے نجی شعبوں کو ٹھوس کاروباری مواقع کی نشاندہی کرنے اور پائیدار کاروباری شراکت داری قائم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
پاکستانی سفارت کار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت کا فروغ ہماری قیادت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی لیے بین الحکومتی کمیشن کے اجلاسوں کے دوران بھی اس معاملے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ہمارا مشترکہ مقصد مضبوط سیاسی تعلقات سے استفادہ کرتے ہوئے ٹھوس، قابلِ عمل اور پائیدار اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
