عدالت کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مستردکرتے ہوئے  جیل بھیجنے کا حکم

انسداد دہشتگردی عدالت نے اسلام آباد پولیس کی ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی کے فوری بعد ایمان مزاری اور شوہر ہادی چٹھہ کی تھانہ کوہسار درج مقدے میں گرفتار کیا اور کچھ دیر کے بعد عدالت پیش کیا گیا ۔

پولیس کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور میاں بیوی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ۔

خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی۔

خیال رہے کہ آج ہی سپریم کورٹ نے  2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں معطل کردی تھیں

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی گئی ہے۔

اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں 17،17 سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔عدالت نے دونوں ملزمان کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5، 5 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے