ڈپٹی کمشنر لاہور نے علیمہ خان اور محمد امیر کو 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کیلئے حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا۔
دونوں افراد کو کوٹ لکھپت جیل میں نظربند کرنے کا حکم جاری کیا گیا،ڈی سی لاہور نے پولیس رپورٹ اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر احکامات جاری کیے۔
پولیس رپورٹ کےمطابق علیمہ خان اورمحمد امیر 9 مئی کےاحتجاج اورروڈ بلاکس کےدوران موجود تھے، دونوں پرکارکنوں کو متحرک کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کےمطابق مبینہ سرگرمیوں سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے دونوں افراد کی 30 روزہ نظر بندی کی سفارش کی تھی۔
ڈی سی کےحکم کےمطابق دونوں کی موجودگی کو عوامی امن و سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا،حکم کےخلاف صوبائی حکومت کے سامنے نمائندگی کا حق حاصل ہوگا۔
واضح رہےکہ اب سےکچھ دیرقبل لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما علیمہ خان کو نقص امن کے خدشے کے باعث تھری ایم پی او کےتحت لاہور لٹن روڈ سےحراست میں لیا،جس کے بعد انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔
