امریکی انتظامیہ نے میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کردی ہے۔یہ اقدام 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد واشنگٹن کی پالیسی میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکا نے کئی برس تک میانمار کے فوجی حکام کو سفارتی تنہائی میں رکھنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے انٹیلی جنس اینڈ ریسرچ مائیکل وینس نے رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔
وینس نے 15 اور 16 ستمبر کو نیپیداو میں میانمار کے رہنما من آنگ ہلائنگ سے ملاقات کی۔یہ ملاقات 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد واشنگٹن اور میانمار کی فوجی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح کا اہم رابطہ تھی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کا ایک اہم مقصد امریکی کاروباری شخصیت ایڈم کاسٹیلو کی رہائی تھا۔کاسٹیلو کو جون میں میانمار میں حراست میں لیا گیا تھا۔ میانمار کی فوجی حکومت نے بعد میں انہیں رہا کرکے ملک سے نکال دیا۔امریکی حکام کی کوششوں کو کاسٹیلو کی رہائی میں اہم قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی رابطوں میں ایسے فراڈ مراکز بھی زیر بحث آئے جو امریکی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔واشنگٹن ان مراکز کے خلاف کارروائی چاہتا ہے۔ یہ معاملہ امریکا اور میانمار کے درمیان مزید رابطوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق مستقبل میں میانمار کے نایاب زمینی معدنی ذخائر پر بھی تعاون زیر بحث آ سکتا ہے۔ امریکا کی پالیسی میں لین دین پر مبنی رابطے
یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔اس پالیسی میں بعض معاملات پر براہ راست عملی تعاون کو ترجیح دی جا رہی ہے۔میانمار کے معاملے میں فراڈ، امریکی شہریوں کی رہائی اور معدنی وسائل جیسے معاملات رابطے کی بنیاد بن رہے ہیں۔
