امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن 322 روزہ تعیناتی کے بعد وطن واپس

امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 322 روزہ طویل تعیناتی کے بعد کیلیفورنیا کی بندرگاہ پر واپس پہنچ گیا۔ جہاز اور اس کے جنگی گروپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ عملے نے مسلسل 265 دن سمندر میں گزارے، جو امریکی بحریہ کی تاریخ کی غیر معمولی طویل تعیناتیوں میں شامل ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز کی واپسی پر اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے ان کا استقبال کیا۔ طویل عرصے بعد اپنے پیاروں سے ملاقات کے مناظر نے کئی خاندانوں کے لیے جذباتی لمحے پیدا کیے۔

رپورٹس کے مطابق طویل مشن کے دوران عملے کو خوراک کی اقسام میں کمی، صفائی کی اشیا کی فراہمی اور دیگر سہولتوں سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے بھی طویل جدائی اور رابطے کی محدود سہولتوں پر تشویش ظاہر کی۔

میڈیا رپورٹس میں ایک اہلکار کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان کے شوہر نے جہاز پر خوراک کی قلت کا ذکر کیا تھا۔ وہ تقریباً 10 ماہ بعد اپنی چار سالہ بیٹی سے ملے۔

امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ کے مطابق، تعیناتی کے دوران ابراہم لنکن کے جنگی گروپ سے وابستہ آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔ یہ تعداد صرف طیارہ بردار جہاز کے عملے تک محدود نہیں تھی۔ اس میں اس کے فضائی ونگ اور معاون جنگی جہازوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جہاز کے عملے کی خدمات کو سراہا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اہلکاروں کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے جہاز پر خراب حالات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو جعلی قرار دیا تھا۔

طویل تعیناتی کے باعث امریکی بحریہ کی جنگی تیاری، رسد اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے۔ ان معاملات پر امریکی حکام اور قانون سازوں نے توجہ دی۔

پیو ریسرچ سینٹر کے 8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ سروے کے مطابق، 65 فیصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق فوجی حکمتِ عملی سے ناخوش ہیں۔ اس کے برعکس 33 فیصد افراد نے ان کی حکمتِ عملی کی حمایت کی۔

سروے 28 ستمبر سے 4 اکتوبر کے دوران 5,062 امریکی بالغ افراد میں کیا گیا۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹوں نے توانائی کی منڈیوں اور مہنگائی کے خدشات کو بھی اہمیت دی ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے