ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ کا کردار سعودی عرب کے دفاع اور تکنیکی معاونت تک محدود رہے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، فیدان نے انقرہ میں ہنگری کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت رکھتا ہے۔
حاقان فیدان نے کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو دیگر رکن ممالک اس کے دفاع میں تعاون کریں گے۔ تاہم، ان کے مطابق اس شق کا مطلب یہ نہیں کہ ترکیہ دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج بھیجے گا۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے فوجی حکام دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ سعودی عرب کو دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس تعاون میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس، نگرانی اور دفاعی منصوبہ بندی شامل ہیں۔ ڈرون آپریشنز اور فضائی دفاعی صلاحیتوں پر بھی بات چیت جاری ہے۔
