شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل ہرگز قابل رعایت جرم نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کر دی

سپریم کورٹ نے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔ فیصلے میں قرار دیا کہ شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل کسی صورت قابل رعایت جرم نہیں ۔

سپریم کورٹ نے مجرم محمد کامران کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ۔ فیصلے میں قرار دیا کہ شادی کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے ۔ شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر لڑکی کو قتل کرنا سنگین اور سنگین ترجرم ہے ۔ مرد کی انا مجروح ہونے پر عورت کو تشدد کا نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں، محض شادی سے انکار کو قتل کے لیے جواز نہیں بنایا جا سکتا ۔ مجرم کے چودہ  سے پندرہ سال قید کاٹنے پرعمرقید کا حق خودبخود پیدا نہیں ہوتا ۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے سزائے موت کے قیدی کو عمر قید کے مجرم کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے