خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق اور منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج قراردادیں پیش کی جائیں گے۔
سینیٹ کا اجلاس سہ پہر 4 بجے ہوگا، جس میں وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی منظوری کی قرارداد پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری شامل ہے۔
قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہوجائے گی۔ اسمبلی اپنا لیڈرخود منتخب کرے گی، دوبارہ حکومت بن جائے گی۔
مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی خلا پر کرنے کی حکمت عملی بنارہے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت سیاسی مفاد کو قومی مفاد پرترجیح دے رہی تھی، گورنرراج دہشتگردی کے خاتمے تک رہے گا۔ جلد پورے صوبے سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا جائےگا۔
راناثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کو قومی مفاد کیخلاف کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائےگی، سیاسی سرگرمی کریں تو اجازت ہونی چاہیے لیکن وہ سیاسی ایکٹ کرتے نہیں۔
