قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا….بل مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے پیش کیا تھا، بل کے تحت ضابطہ فوجداری میں ترمیمکی جائے گی اور ریپ کے شکار بچوں کے لیے خصوصی چائلڈ کورٹس قائم کی جائیں
بچوں سے زیادتی کے مقدمات سننے کے لیے سپشل کورٹس بنانے کا بل پیش کرنے والی رکن اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ یہ بل بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے..
چائلڈ کورٹس کے قیام سے متاثرہ بچوں کو انصاف ملنے میں آسانی ہوگی اور مجرموں کو سزا ملنے میں بھی تاخیر نہیں ہوگی۔
وزارت قانون کے نمائندے جام اسلم نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ تاہم، کمیٹی نے اکثریتی رائے سے بل کو منظور کر لیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی زرتاج گل نے کہا کہ زیادتی کے مجرموں کو سزا نہیں ملتی اور اس طرح کے قوانین کا نفاذ یقینی بنانا چاہیے، قانون بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد باقاعدہ قانون بن جائے گا