نئی دہلی : مودی سرکار کے تیسرے دورِ اقتدار میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان مودی کے ہندوتوا نظریے کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔بی جے پی حکومت بھارت میں گائے کے تحفظ کے نام پر آئے روز متعصبانہ اور انتہا پسندانہ قوانین نافذ کرنا معمول بنا چکی ہے۔
ان تمام ہتھکنڈوں کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنا اور انہیں دباؤ میں رکھنا ہے۔حال ہی میں بی بی سی نے مسلمانوں اور دیگر گائے تاجروں پر گائے رکشکوں کے ہاتھوں ہونے والے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی دودھ کی صنعت سب سے بڑی ہے مگر گائے کے تحفظ کے قوانین مسلمانوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ بھارت کے بیشتر حصوں میں بیف کھانے پر پابندی جبکہ گائے ذبح کے خلاف کالے قوانین ہیں۔
بی بی سی کا کہنا تھا کہ 2014 میں ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد گائے کو سیاست کا واضح نشان بنا دیا گیا۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں گائے تحفظ کے قوانین کی سختی بڑھ گئی ہے۔
بی بی سی رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے گائے رکھنے پر قانون بنا کر 10 سال قید کی سزا اور 5 لاکھ تک جرمانہ بڑھا دیا۔سخت قوانین نے عید کے موقع پر بھی گائے کے ذبح کے خوف کو بڑھا دیا۔گائے رکشکوں کی جانب سے گائے کی نقل و حمل پر مسلمانوں پر حملے اور قتل معمول بن چکے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق ان سب میں بھارتی پولیس بھی گائے کی نقل و حمل کرنے والوں کو پریشان کرنے میں ملوث ہے۔ گائے رکشک، تاجروں بالخصوص مسلمان تاجروں کی گاڑیوں کو روک کر پولیس پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ گاڑی کو ضبط کر لے۔
گائے ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا کہ گاڑیاں چھڑانے کے لیے وکیل کرنا پڑتا ہے جس پر 3 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ اس صورتحال سے گائے کو بروقت خوراک اور علاج نہیں ملتا جس کے باعث وہ مر جاتی ہیں اور ہمیں بھاری نقصان ہوتا ہے۔
بی بی سی کا کہنا تھا کہ اتر پردیش، بی جے پی کا گڑھ ہے اور وہاں ملک کے سخت ترین گائے تحفظ قوانین نافذ ہیں۔ حال ہی میں اتر پردیش کے ضلع کُشی نگر میں گائے ٹرانسپورٹر کو گائے اسمگلنگ کے جھوٹے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔
ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ گائے لے جانا اتنا بڑا رسک ہے اب ہر روز عدالت کے چکر لگا کر بینک لون سے خریدی گئی گاڑی چھڑانی پڑتی ہے۔ گائے رکشکوں نے میری زندگی خطرے میں ڈال دی، اب کوئی کام بھی نہیں دیتا۔
بی بی سی کا کہنا تھا کہ گائے ذبح قانون "Anti Cow Slaughter Act” کے تحت ضلعی انتظامیہ اور گائے رکشکوں کو گاڑیاں ضبط کرنے کا کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
گائے ٹرانسپورٹرکا کہنا تھا کہ پولیس نے جھوٹے کیس میں پھنسایا، رشوت مانگی، انکار پر جیل بھیج دیا اور ضمانت کے لیے 2 لاکھ روپے طلب کیے۔
2020 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے گائے ذبح مخالف قانون کے بے گناہوں کے خلاف استعمال ہونے کا انکشاف کیا۔2023 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے گائے کی نقل و حمل "کوئی جرم نہیں” قرار دیا۔
بی بی سی کا کہنا تھا کہ بہار میں بھی بی جے پی حکومت کے باعث گائے رکشکوں کے تشدد، بھتہ خوری اور کرپشن کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ راجھستان میں ’گاؤ رکشکوں’ کی جانب سے محض مویشیوں کے منتقلی کے شک کی بنیاد پر 4 مسلمان مردوں کو شدید زدوکوب کا نشانہ بنایا گیا۔
آئے دن مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں اور جھوٹے مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے قبل اسی طرح کے ایک واقعے میں اُترا کھنڈ میں ایک مسلمان نوجوان کو پولیس نے گائے کا گوشت لے جانے کے شبہ میں قتل کر دیا۔
ایک اور واقع میں ایک مسلمان بزرگ کو ’گاؤ رکشکوں’ نے ٹرین میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان سب واقعات کے پیش نظر بھارت میں ہندو انتہا پسند گائے رکشکو کی جانب سے گائے فروخت کرنے کا کاروبار ناممکن ہو گیا ہے۔ آخر کب تک بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ڈھاتی رہے گی؟