مصر نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد بحالی کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور بین الاقوامی فنڈنگ کو یقینی بنانا ہے۔ توقع ہے کہ اس منصوبے کو آنے والے عرب سربراہی اجلاس میں باضابطہ طور پر منظور کر لیا جائے گا۔
مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اعلان کیا کہ قاہرہ جلد ہی اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے رابطے شروع کرے گا۔ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "ایک بار عرب سربراہی اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دے دی گئی، تو ہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ضروری مالی معاونت کے حصول پر کام کریں گے۔”
پروجیکٹ کے بنیادی نکات
غزہ کی تعمیر نو کے اس منصوبے میں شامل ہیں:
✅ بنیادی ڈھانچے کی بحالی (سڑکیں، بجلی، پانی کی سپلائی)
✅ طبی سہولیات کی بحالی
✅ معاشی مواقع اور روزگار کی فراہمی
مصری حکام نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کو اپنے علاقوں میں رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں کہیں اور آباد کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ موقف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ نقل مکانی کے برعکس ہے۔
آئندہ عرب سربراہی اجلاس میں علاقائی رہنما اس منصوبے کا جائزہ لیں گے، جبکہ خلیجی ممالک اور یورپی اتحادی اس کی مالی اعانت اور عملی نفاذ میں کردار ادا کریں گے۔
