پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ،،، رواں مالی سال کی کارکردگی اور آئندہ مالی
سال کے اہداف پر مشاورت ،،،آئی ایم ایف کا ٹیکس ریونیوبڑھانے اوراخراجات کم کرنے کا مطالبہ،،، معاشی شرح نمو 4فیصد سے تجاوز کر نے کاامکان۔۔
وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف مشن کو رائٹ سائزنگ کے تحت خزانے پر بوجھ کم کرنے پر بریفنگ دی ۔ عالمی مالیاتی ادارے کو بتایاگیاکہ سرکاری اداروں میں ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں مستقل ختم کر د ی گئی ہیں جبکہ مختلف محکموں میں ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی جائے گی ۔گولڈن ہینڈ شیک کے تحت اضافی ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا پلان تشکیل دیاگیاہے ۔فالتو آسامیاں ختم کرنے کیلئے سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کی جائے گی ۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال بیرونی مالی ضروریات کیلئے 20 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہونگے اور دوست ممالک سے ڈیپازٹس رول اوور کرائے جائیں گے ۔ مذاکرات میں تجویز دی گئی کہ آئندہ مالی سال ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائدرکھا جائے ، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 13 فیصد ،نان ٹیکس وصولیاں 2745 ارب جبکہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی توقع ہے ۔
آئی ایم ایف کا اگلے سال ٹیکس ریونیو 15ہزار ارب روپے رکھنے کا مطالبہ
