برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانوی مصنوعات پر نئے درآمدی محصولات کے اعلان کے جواب میں امریکی اشیاء پر ممکنہ جوابی محصولات کی فہرست جاری کر دی ہے۔ حکومت نے تجارتی صنعت اور کاروباری حلقوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس پالیسی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
اہم نکات:
27% امریکی درآمدات برطانیہ کے مجوزہ جوابی اقدامات کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
ہدف شدہ اشیاء میں اشیائے صرف، زرعی مصنوعات، اور صنعتی مواد شامل ہیں۔
چار ہفتوں پر مشتمل مشاورتی عمل کا آغاز، کاروباری اداروں سے رائے طلب۔
وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا امریکہ سے سفارتی مذاکرات پر زور۔
ٹرمپ انتظامیہ کی 10% بیس لائن ٹیرف پالیسی پر عالمی سطح پر شدید ردعمل۔
تجارتی تنازع اور برطانوی حکمتِ عملی
برطانوی بزنس سیکریٹری جوناتھن رینالڈز نے کہا ہے کہ حکومت سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گی تاکہ برطانوی کاروبار کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ تاہم، اسٹارمر حکومت چاہتی ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں اور منصفانہ تجارتی معاہدہ ممکن بنایا جائے۔
دوسری جانب، امریکی ٹیرف پالیسی نے عالمی تجارتی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر 54%، یورپی یونین پر 20% اضافی درآمدی محصولات عائد کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر اقتصادی بے چینی پائی جاتی ہے۔
