امریکہ کی امیر ترین شخصیات نے صدر ٹرمپ کی دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ کو ’’اکنامک نیوکلیئر وار‘‘ قرار دے دیا۔۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بِل ایکمین نے کہا اگر چین پر اضافی 50 فیصد ٹیکس عائد ہو گیا تو کاروباری سرمایہ کاری ختم ہو جائے گی اور صارفین اپنی جیبوں کو تالے لگا لیں گے۔۔
صدر ٹرمپ کی تجارتی جنگ سے دنیا میں امریکہ کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔۔ مالی نقصان اور سیاسی ساکھ کو پورا کرنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔۔
انہوں نے کہا امریکہ ایک خود ساختہ اقتصادی جوہری جنگ کی طرف جا رہا ہے۔۔ اب امریکی عوام کو پریشان ہونا شروع کر دینا چاہیئے۔۔
ایک نہ ختم ہونے والی تجارتی جنگ میں کون سا ملک یا سرمایہ کار امریکہ میں اپنا سرمایہ لگانا چاہے گا۔۔
جے پی مورگن کے جیمی ڈیمون نے کہا ٹیرف لگنے کے بعد سے قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔۔ دنیا میں امریکہ کے مفادات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور اقتصادی کساد بازاری کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔۔ امریکی معیشت کو تجارتی جنگ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔۔
ایک اور ارب پتی سٹینلے ڈرکن ملر نے کہا 10 فیصد سے زائد ٹیرف کسی بھی ملک کی معیشت کیلئے زہر قاتل ہے۔
